ڈھیٹ پن

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ڈھٹائی، بے شرمی، بے باکی، بے خوفی۔ "الفاظ پرست حضرات صفائی اور ڈھیٹ پن سے اللہ تعالٰی کی ذات اور صفات کے متعلق پڑھے پڑھاش سنے سناش الفاظ دہراتے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، مضامین عظمت، ٥٣ ) ٢ - ہٹ دھرمی، ضد۔ "خطوط کی روشنی میں ان کا جواب دینا ضروری نہیں رہا ہے مگر میں ان کے ڈھیٹ پن کا خاصا قائل ہو چکا ہوں۔"      ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ٢٥٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ڈھیٹ' کے ساتھ 'پن' بطور لاحقۂ کیفیت و اسمیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٥ء کو "مضامین عظمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈھٹائی، بے شرمی، بے باکی، بے خوفی۔ "الفاظ پرست حضرات صفائی اور ڈھیٹ پن سے اللہ تعالٰی کی ذات اور صفات کے متعلق پڑھے پڑھاش سنے سناش الفاظ دہراتے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، مضامین عظمت، ٥٣ ) ٢ - ہٹ دھرمی، ضد۔ "خطوط کی روشنی میں ان کا جواب دینا ضروری نہیں رہا ہے مگر میں ان کے ڈھیٹ پن کا خاصا قائل ہو چکا ہوں۔"      ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ٢٥٢ )

جنس: مذکر